Friday, August 21, 2009

’شوگر لابی جیت گئی‘

 

آصف فاروقی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گنا

ماہرین چینی کی قیمت کو اس کے خام مال گنے کی قیمت سے مقابلہ کر کے دیکھتے ہیں

پاکستان میں چینی بنانے والے کارخانوں کے مالکان اور وفاقی حکومت کے درمیان منگل کی شب ہونے والے مذاکرات کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اس سے، بعض ماہرین کے مطابق، یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت نے ’شوگر لابی‘ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور وفاقی وزیر پیداوار میاں منظور وٹو کی سربراہی میں سرکاری وفد نے کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دو فیصلے کیے۔ ایک یہ کہ ملک بھر میں چینی انچاس روپے پچھہتر پیسے میں فروخت کی جائےگی اور دوسرے یہ کہ حکومت (وفاقی اور صوبائی) چینی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف جاری آپریشن بند کر دے گی۔

زرعی ماہر اور ایگری بزنس فورم کے سربراہ ابراہیم مغل نے اس معاہدے پر مختصر تبصرہ کیا۔ ’شوگر لابی جیت گئی‘۔

شوگر مل مالکان اور حکومت کے درمیان اس معاہدے میں نفع نقصان کا حساب لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ گزشتہ چند روز سے ملک میں چینی کی فراہمی اور قیمت کے بارے میں پیدا شدہ جس صورتحال کو ایک پیچیدہ ’بحران‘ کی شکل دی جارہی ہے ماہرین کے خیال میں اصل میں اس بحران کا سرے سے وجود موجود ہی نہیں تھا۔

پاکستان میں چینی کی ماہانہ کھپت تین لاکھ ٹن ہے۔ شوگر مل ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال جون میں ملک کی اسّی شوگر ملوں کے پاس اکیس لاکھ ٹن چینی موجود تھی۔ چینی کے یہ ذخائر آئندہ سات ماہ کے لیے کافی تھے۔ اس دوران گنے کی نئی فصل تیار ہو جاتی اور نومبر میں نئی چینی مارکیٹ میں آجاتی۔

پھر یہ بحران کہاں سے آگیا؟

چند برس قبل ملک میں گنے کی قیمت چالیس روپے من اور اس کے مقابلے میں چینی کی قیمت سولہ روپے کلو مقرر کی گئی تھی۔ اب گنا اسّی روپے فی من پر فروخت ہو رہا ہے اس تناسب سے چینی کی قمیت بتیس روپے کلو ہونی چاہئے کیونکہ اس دوران اس صنعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

ابراہیم مغل

بحران کی بنیاد شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اس مطالبے میں تلاش کی جاسکتی ہے جو انہوں نے چینی کی فی کلو قیمت میں پانچ روپے اضافے کے لیے حکومت کے سامنے پیش کیا تھا اور جسے حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔

حکومت کا اس وقت مؤقف تھا کہ چینی کی فی کلو قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس میں اصل میں کمی کی ضرورت ہے۔

ماہرین چینی کی قیمت کو اس کے خام مال گنے کی قیمت سے مقابلہ کر کے دیکھتے ہیں۔

ابراہیم مغل کے مطابق چند برس قبل ملک میں گنے کی قیمت چالیس روپے من اور اس کے مقابلے میں چینی کی قیمت سولہ روپے کلو مقرر کی گئی تھی۔ اب گنا اسّی روپے فی من پر فروخت ہو رہا ہے اس تناسب سے چینی کی قمیت بتیس روپے کلو ہونی چاہئے کیونکہ اس دوران اس صنعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

تاہم ’شوگر لابی‘ کے نام سے مشہور چینی کے کارخانے دار چونکہ ہر حکومت میں ایک مضبوط گروہ کے طور پر شامل ہوتے ہیں اس لیے انہیں اپنے حق میں فیصلہ کروانے میں کبھی مشکل نہیں ہوتی۔

اس بار حکومت کی جانب سے چینی کی فی کلو قیمت پچپن روپے مقرر کرنے سے انکار کے بعد اس ماہ کے آغاز میں اچانک چینی کی دستیابی میں رکاوٹ آنا شروع ہو گئی۔ پہلے ملک کے چھوٹے قصبوں میں چینی ملنی مشکل ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ چینی کی عدم دستیابی کی شکایت بڑے شہروں سے بھی سامنے آنے لگی۔

حکومت پنجاب نے لاکھوں بوری چینی مختلف شوگر ملوں اور ان کے گوداموں سے برآمد کی

معیشت کے بنیادی اصول کے مطابق چینی کی کمی ہوئی تو اس کا نرخ بھی بڑھنا شروع ہوگیا۔اس صورتحال سے آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اس سے پہلے کہ چینی کی قیمت میں کیا جانے والا یہ ’مصنوعی‘ اضافہ مستقل صورت اختیار کر لیتا جیسا کہ ماضی میں ہوتا چلا آیا ہے، حکومت پنجاب نے ذخیرہ کی گئی چینی زبردستی مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا۔

حکومت پنجاب کی چار دن جاری رہنے والی اس مہم کے دوران لاکھوں بوری چینی مختلف شوگر ملوں اور ان کے گوداموں سے برآمد ہوئی۔ فوری نتیجہ یہ نکلا کہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت رک گئی بلکہ اس میں کچھ کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں گزشتہ ہفتے چینی پچپن روپے فی کلو تک فروخت ہوتی رہی جبکہ بدھ کے روز بیشتر مارکیٹوں میں یہ نرخ انچاس روپے فی کلو تک گر گئے۔

اس دوران شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت پنجاب کے ساتھ مذاکرات کر کے اس ’کریک ڈاؤن‘ کو رکوانے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ اب اگر وفاقی حکومت سے مذاکرات کے بعد چینی کے نرخ انچاس روپے ستر پیسے طے ہوئے ہیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ ان مذاکرات میں جیت کس کی ہوئی۔

Source: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090819_sugar_crisis_rh.shtml

No comments:

Post a Comment